English

تاریخ

ثاقبہ گرلز کالج کی بنیاد قلم قبیلہ ادبی ٹرسٹ کے شاندار ادبی پلیٹ فارم پر کھڑی ہے جس کا افتتاح 1979 میں بیگم ثاقبہ رحیم الدین نے کیا۔ اس کے قیام سے لے کر آج تک ہر سال اس ٹرسٹ میں نمایاں اور شاندار ادبی تقریبات کا انعقاد ہوتا آ رہا ہے

در حقیقت قلم قبیلہ ادبی ٹرسٹ ملک کے تمام مصنفین اور شعرا کو ایک با وقار ادبی محل وقوع مہیا کرتا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقی تحریروں کو صادر کر تے ہیں

قلم قبیلہ ادبی ٹرسٹ نے ہر سال ہونے والی ادبی تقریبات کا ، جو 1979 سے با قائدہ منعقد ہوتی آ رہی ہیں، صوتی اور بصری تدوین کا بیش بہا اور انمول خزانہ جمع کر لیا ہے ۔ ان تدوین کے ساتھ قلم قبیلہ نے اس کی سالانہ ادبی تقریبات میں شامل ہونے والے ارکان کی استثنائی تحریروں کو بھی اکٹھا کیا ہے۔ ان تحریروں میں ان اراکین کی تحریریں بھی موجود ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ یہ ناقابل تلافی دولت اب قلم قبیلہ کی آرٹ گیلری کا حصہ ہے جو طلبا اور محققین کی خواندگی اور تسکین کا باعث ہے۔ ہر سال گزرنے کے ساتھ اس اختراعی ادبی خزانے کا حجم وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے

سن 2014 میں قلم قبیلہ ادبی ٹرسٹ نے ثاقبہ گرلز کالج کی بنیاد رکھ کر تعلیم کے فروغ میں ایک اور نمایا قدم بڑھایا۔ اس عمل کا معروضی مقصد عصر حاضر کے جدید تعلیمی نظام کو رائج کر کے بچیوں کی فطرتی صلاحیتوں کی پیش رفت میں انکی مدد کرنا اور انکی رویت دنیاوی کو وسعت دینا ہے تاکہ وہ ملکی ترقی میں امتیازی حصہ لے سکیں

ثاقبہ گرلز کالج کو قلم قبیلہ ادبی ٹرسٹ کی تمام سہولیات، تجربہ، اور عظمت ورثہ میں ملی ہیں اور ان خصوصیات کو طالبات کی نئی نسلوں میں منتقل کرنے کے لیے یہ کالج پوری طرح تیار ہے